دیوانِ غالبردیف ی
عاشق، نقابِ جلوۂ جانانہ چاہیے
۱
عاشق، نقابِ جلوۂ جانانہ چاہیےفانوسِ شمع کو پرِ پروانہ چاہیے
۲
ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میںمعشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہیے
۳
اُس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو، ہاں!شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہیے
۴
پیدا کریں دماغِ تماشائے سرو و گلحسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
۵
دیوانگاں ہیں حاملِ رازِ نہانِ عشقاے بے تمیز، گنج کو ویرانہ چاہیے
۶
ساقی، بہارِ موسمِ گل ہے سرور بخشپیماں سے ہم گزر گئے، پیمانہ چاہیے
۷
جادو ہے یار کی روشِ گفتگو، اسدؔیاں جز فسوں نہیں، اگر افسانہ چاہیے
۱۹۹ / ۳۰۷