دیوانِ غالبردیف ی
چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے
۱
چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے
۲
صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذرجائے مے، اپنے کو کھینچا چاہیے
۳
دل تو ہو اچھا، نہیں ہے گر دماغکچھ تو اسبابِ تمنا چاہیے
۴
چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے!
۵
چاک مت کر جیب، بے ایامِ گُلکُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے
۶
دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے
۷
دُشمنی نے میری، کھویا غیر کوکِس قدر دُشمن ہے، دیکھا چاہیے
۸
اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے
۹
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدنا اُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے
۱۰
غافل، اِن مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچھا چاہیے
۱۱
چاہتے ہیں خُوب رویوں کو اسدؔآپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے
۲۰۰ / ۳۰۷