دیوانِ غالبردیف ی
نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنے
۱
نکتہ چیں ہے، غمِ دل اُس کو سُنائے نہ بنےکیا بنے بات، جہاں بات بنائے نہ بنے
۲
میں بُلاتا تو ہوں اُس کو، مگر اے جذبۂ دلاُس پہ بن جائے کُچھ ایسی کہ بِن آئے نہ بنے
۳
کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائےکاش! یُوں بھی ہو کہ بِن میرے ستائے نہ بنے
۴
غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ، اگرکوئی پُوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چُھپائے نہ بنے
۵
اِس نزاکت کا بُرا ہو، وہ بھلے ہیں، تو کیاہاتھ آویں، تو اُنھیں ہاتھ لگائے نہ بنے
۶
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اُس نے کہ اُٹھائے نہ بنے
۷
موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بِن آئے نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ، تو بُلائے نہ بنے
۸
بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اُٹھائے نہ اُٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے
۹
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔ!کہ لگائے نہ لگے اور بُجھائے نہ بنے
۲۰۲ / ۳۰۷