دیوانِ غالبردیف ی

چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے

۱

چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرے

۲

جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے

۳

ہے شکستن سے بھی دل نومید، یا رب! کب تلکآبگینہ کوہ پر عرضِ گِراں جانی کرے

۴

مے کدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوئے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے

۵

خطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے

۶

ہاتھ پر گر ہاتھ مارے یار وقتِ قہقہہکرمکِ شب تاب آسا مِہ پر افشانی کرے

۷

وقت اس افتادہ کا خوش، جو قناعت سے اسدؔنقشِ پائے مور کو نقشِ سلیمانی کرے

۲۰۳ / ۳۰۷