دیوانِ غالبردیف ی
وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے
۱
وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے
۲
کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے
۳
دِکھا کے جنبشِ لب ہی، تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے
۴
پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے شراب تو دے
۵
یہ کون کہوے ہے آباد کر ہمیں، لیکنکبھی زمانہ مرادِ دلِ خراب تو دے
۶
اسدؔ! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئےکہا جو اُس نے، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“
۲۰۴ / ۳۰۷