خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائے
Editors' notes
غزل: متداول دیوان میں یہ غزل صرف مطلع اور مقطع پر مشتمل ہے۔ باقی اشعار نسخۂ رضا/حمیدیہ سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعودردیف: نسخۂ بھوپال میں اس غزل کی ردیف "جاوے" ہے۔ — اعجاز عبید
About this couplet
This is couplet 1 of 5 in “خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۵