دیوانِ غالبردیف ی
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے
۱
خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائے
۲
بہ پاسِ شوخیٔ مژگاں سرِ ہر خار سوزن ہےتبسّم برگِ گل کو بخیہِ دامن نہ ہو جائے
۳
جراحت دوزیٔ عاشق ہے جائے رحم ترساں ہوںکہ رشتہ تارِ اشکِ دیدۂ سوزن نہ ہو جائے
۴
غضب شرم آفریں ہے رنگ ریزی ہائے خود بینیسپیدی آئنے کی پنبۂ روزن نہ ہو جائے
۵
سمجھ اس فصل میں کوتاہیٔ نشو و نما، غالبؔ!اگر گُل سَرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جائے
۲۰۶ / ۳۰۷