فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
Editors' notes
مصرع: نسخۂ حامد علی خاں میں یہ مصرع یوں ہے: ؏ پَر تُجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو ان کا حاشیہ: — جویریہ مسعود نسخۂ نظامی، نسخۂ عرشی اور نسخۂ مالک رام میں یہ مصرع "تو" کے بغیر چھپا ہے۔ ایک خستہ حال پرانے نسخے میں بھی جو شاید مطبعِ احمدی دہلی میں چھپا تھا "تو" نہیں ہے۔ باقی تمام قدیم و جدید نسخوں میں، جو نظر سے گزرے، "تو" موجود ہے۔ طباطبائی نے اِس مصرع کو "تو" کے ساتھ شائع کر کے "سی" پر عَروضی اعتراض کیا ہے مگر بھر خود ہی اعتراض کو رد کر دیا ہے۔ دو قدیم نسخوں میں "سی" کی جگہ "سے" بھی چھپا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 9 in “فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۹