دیوانِ غالبردیف ی

فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے

۱

فریاد کی کوئی لَے نہیں ہےنالہ پابندِ نَے نہیں ہے

۲

کیوں بوتے ہیں باغباں تون٘بے؟گر باغ گدائے مَے نہیں ہے

۳

ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے

۴

ہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!ہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے

۵

شادی سے گُذر کہ، غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو، تو دَے نہیں ہے

۶

کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد!مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے

۷

انجامِ شمارِ غم نہ پوچھویہ مصرفِ تا بکَے نہیں ہے

۸

جس دل میں کہ "تا بکَے" سما جائےواں عزّتِ تختِ کَے نہیں ہے

۹

ہستی ہے، نہ کچھ عَدم ہے، غالبؔ!آخر تُو کیا ہے، اَے "نہیں ہے"

۲۰۷ / ۳۰۷