۱فریاد کی کوئی لَے نہیں ہےنالہ پابندِ نَے نہیں ہے
۲کیوں بوتے ہیں باغباں تون٘بے؟گر باغ گدائے مَے نہیں ہے
۳ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے
۴ہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!ہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے
۵شادی سے گُذر کہ، غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو، تو دَے نہیں ہے
۶کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد!مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے
۷انجامِ شمارِ غم نہ پوچھویہ مصرفِ تا بکَے نہیں ہے
۸جس دل میں کہ "تا بکَے" سما جائےواں عزّتِ تختِ کَے نہیں ہے
۹ہستی ہے، نہ کچھ عَدم ہے، غالبؔ!آخر تُو کیا ہے، اَے "نہیں ہے"