دیوانِ غالبردیف ی
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
۱
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتےمرتے ہیں، ولے، اُن کی تمنا نہیں کرتے
۲
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانیظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
۳
یہ باعثِ نومیدیٔ اربابِ ہوس ہےغالبؔ کو بُرا کہتے ہو، اچھا نہیں کرتے
۲۰۹ / ۳۰۷