دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہے
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں یہ غزل ان دو شعروں اور مقطع مشتمل ہے۔ باقی اشعار نسخۂ رضاسے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 8 in “دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۸