دیوانِ غالبردیف ی
دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہے
۱
دل سراپا وقفِ سودائے نگاہِ تیز ہےیہ زمیں، مثلِ نیستاں، سخت ناوک خیز ہے
۲
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل، کیوں نہ ہو؟یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
۳
مرتے مرتے، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گیوائے ناکامی! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
۴
ہو سکے کیا خاک دست و بازوئے فرہاد سے؟بے ستوں، خوابِ گرانِ خسروِ پرویز ہے
۵
ان ستم کیشوں کے کھائے ہیں، زبس، تیرِ نگاہپردۂ بادام، یک غربالِ حسرت بیز ہے
۶
خوں چکاں ہے جادہ، مانندِ رگِ سودائیاںسبزۂ صحرائے اُلفت، نشترِ خوں ریز ہے
۷
ہے بہارِ تیز رو، گلگونِ نکہت پر سواریک شکستِ رنگِ گل، صد جنبش مہمیز ہے
۸
عارضِ گُل دیکھ، رُوئے یار یاد آیا، اسدؔ!جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
۲۱۱ / ۳۰۷