دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے

Editors' notes

غزل: یہ غزل قلعے کے مشاعرے منعقدہ ۳ جمادی الثانی ۱۲۶۹ھ، مطابق ۱۰ اپریل ۱۸۵۳ء کے لیے کہی گئی تھی (خط بنام حقیرؔ، بحوالہ غالبؔ کے خطوط، صفحہ ۱۱۴۵)، اور دہلی اردو اخبار (تتمہ) جلد ۱۵ نمبر ۱۷ میں ۲۴ اپریل ۱۸۵۳ء کو شائع ہوئی تھی۔ — نسخۂ رضا

About this couplet

This is couplet 1 of 9 in “⁨دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۹