دیوانِ غالبردیف ی

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے

۱

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیےہوا رقیب، تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے

۲

یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بِن نہ رہےقضا سے شکوہ ہمیں کِس قدر ہے، کیا کہیے!

۳

رہے ہے یوں گِہ و بے گہِ، کہ کُوئے دوست کو اباگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے، کیا کہیے!

۴

زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریبکہ بن کہے ہی انھیں سب خبر ہے، کیا کہیے

۵

سمجھ کے کرتے ہیں، بازار میں وہ پُرسشِ حالکہ یہ کہے کہ، سرِ رہ گزر ہے، کیا کہیے؟

۶

تمھیں نہیں ہے سرِ رشتۂ وفا کا خیالہمارے ہاتھ میں کچھ ہے، مگر ہے کیا؟ کہیے!

۷

اُنہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے، کیوں لڑیئےہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے، کیا کہیے؟

۸

حَسد، سزائے کمالِ سخن ہے، کیا کیجےسِتم، بہائے متاعِ ہُنر ہے، کیا کہیے!

۹

کہا ہے کِس نے کہ غالبؔ بُرا نہیں، لیکنسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہیے

۲۱۲ / ۳۰۷