دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے
Editors' notes
غزل: اس غزل کے دو شعر (تیسرا اور چوتھا) نسخۂ شیرانی (۱۸۲۶) میں موجود ہیں۔ اور جس غزل میں یہ دو شعر اضافہ کیے گئے ہیں وہ اصلاً نسخۂ بھوپال میں ہے اور اس کی جداگانہ حیثیت ہے۔ اس لیے اصول کے مطابق اس غزل کو نسخۂ شیرانی میں ہی رکھا جائے گا۔ تاہم مکمل غزل گلِ رعنا میں شامل ہے۔ آخری شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ غالبؔ نے متداول غزل کے باقی شعر اپنے بیمار بھائی یوسف کی صحت یابی کی خبر (اپریل ۱۸۲ء) سن کر کلکتے کے قیام کے دوران فکر کیے ہوں گے۔ چونکہ گلِ رعنا کلام کا انتخاب ہے اس لیے تین شعر (مطلع، مقطع اور پانچواں شعر) انتخاب نہیں کیے گئے۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 9 in “دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۹