دیوانِ غالبردیف ی
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھے
۱
دیکھ کر در پردہ گرمِ دامن افشانی مجھےکر گئی وابستۂ تن میری عُریانی مجھے
۲
بن گیا تیغِ نگاہِ یار کا سنگِ فَساںمرحبا مَیں! کیا مبارک ہے گراں جانی مجھے
۳
کیوں نہ ہو بے التفاتی، اُس کی خاطر جمع ہےجانتا ہے محوِ پُرسش ہائے پنہانی مجھے
۴
میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگیلِکھ دیا مِن جملۂ اسبابِ ویرانی، مجھے
۵
بد گماں ہوتا ہے وہ کافر، نہ ہوتا، کاشکے!اِس قدر ذوقِ نوائے مُرغِ بُستانی مجھے
۶
وائے! واں بھی شورِ محشر نے نہ دَم لینے دیالے گیا تھا گور میں ذوقِ تن آسانی مجھے
۷
وعدہ آنے کا وفا کیجے، یہ کیا انداز ہے؟تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے؟
۸
ہاں نشاطِ آمدِ فصلِ بہاری، واہ واہ!پھر ہُوا ہے تازہ سودائے غزل خوانی مجھے
۹
دی مرے بھائی کو حق نے از سرِ نَو زندگیمیرزا یوسف ہے، غالبؔ! یوسفِ ثانی مجھے
۲۱۳ / ۳۰۷