حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے

کریں گے کوہ کُن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے

Editors' notes

ہنوز: نسخۂ عرشی میں "ہنوز" کی جگہ "ابھی" چھپا ہے ۔ جو قدیم و جدید نسخے نظر سے گزرے، اُن سے اس کی کوئی سند نہیں ملی۔ یہ غالباً سہوِ کتابت ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 3 of 10 in “⁨حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۳ / ۱۰