دیوانِ غالبردیف ی

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے

۱

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

۲

قد و گیسو میں، قیس و کوہ کُن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے

۳

کریں گے کوہ کُن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے

۴

نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے

۵

وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے

۶

رہے دل ہی میں تیر ، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے

۷

نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائیوفا داری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

۸

پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بے تابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زُلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے

۹

رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے

۱۰

وہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے

۲۱۵ / ۳۰۷