دیوانِ غالبردیف ی
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہےچمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں، قیس و کوہ کُن کی آزمائش ہےجہاں ہم ہیں، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہ کُن کے حوصلے کا امتحاں آخرہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں، دیکھو، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر ، اچھا، جگر کے پار ہو، بہترغرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائیوفا داری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ، اے دلِ وابستہ! بے تابی سے کیا حاصل؟مگر پھر تابِ زُلفِ پُر شکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم، تب دیکھیے کیا ہو!ابھی تو تلخیٔ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر، وعدہ کیسا، دیکھنا، غالبؔ!نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش ہے
۲۱۵ / ۳۰۷