کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے"

کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجےکبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے

Editors' notes

کبھی: نسخۂ نظامی میں یہاں "کبھی" کی جگہ "کہیں" درج ہے جو مُبرہن طور پر سہوِ کتابت ہے۔ دیگر قدیم و جدید نسخوں میں یہ دونوں شعر صحیح یا غلط، دونوں ہی صورتوں میں ملتے ہیں۔ صحیح صورت سے مراد وہ صورت ہے جو متن میں درج کی گئی۔ دوسری صورت ، "کہیں" کے ساتھ، غلط ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 7 of 11 in “⁨کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے"⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۷ / ۱۱