ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

Editors' notes

شعر ۲: یہ مشہور شعر نسخۂ مہر اور نسخۂ طاہر کے علاوہ کسی اور نسخے میں نہیں ملا۔ گمان غالبؔ ہے کہ یہ شعر بہادر شاہ ظفر کا ہے ۔ نیز مہر صاحب نے نوائے سروش میں اس شعر کو متن میں جگہ تو دی ہے مگر تشریح نہیں لکھی۔ ( جویریہ مسعود)

About this couplet

This is couplet 10 of 11 in “⁨ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱۰ / ۱۱