دیوانِ غالبردیف ی

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

۱

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

۲

ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے

۳

ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پروہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟

۴

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

۵

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

۶

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

۷

ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے

۸

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے

۹

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

۱۰

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

۱۱

کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظپر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

۲۳۰ / ۳۰۷