۱ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
۲ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
۳ڈرے کیوں میرا قاتل؟ کیا رہے گا اُس کی گردن پروہ خوں، جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بہ دم نکلے؟
۴نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکنبہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
۵بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کااگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
۶مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
۷ہوئی اِس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامیپھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جامِ جم نکلے
۸ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کیوہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغِ ستم نکلے
۹محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
۱۰خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالمکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
۱۱کہاں میخانے کا دروازہ غالبؔ! اور کہاں واعظپر اِتنا جانتے ہیں، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے