ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
ذرا کر زور سینے پر کہ تیر پر ستم نکلےجو وہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے
Editors' notes
شعر: یہ شعر نسخۂ مہر کے علاوہ کسی اور نسخے میں نہیں ملا ۔ مہر صاحب نے نوائے سروش میں اس شعر کو متن میں جگہ تو دی ہے مگر تشریح نہیں لکھی۔ میرا خیال ہے کہ غالبؔ سے اس کی نسبت مشکوک ہے۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 11 in “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۱۱