ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائےہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

Editors' notes

مگر: نسخۂ حمیدیہ (اور مہر) میں یہاں لفظ "اگر" ہے، دوسرے تمام نسخوں میں "مگر"، صرف طباطبائی نے حمیدیہ کی املا قبول کی ہے۔ ممکن ہے کہ حمیدیہ میں یہ لفظ کتابت کی غلطی ہو۔ — اعجاز عبید مزید: نسخۂ مہر میں یہاں "مگر" کی جگہ "اگر" چھپا ہے لیکن نسخۂ حمیدیہ، نسخۂ عرشی، نسخۂ مالک رام، نسخۂ نظامی، نسخۂ حسرت موہانی، نسخۂ بیخود دہلوی اور دیگر تمام پیشِ نظر، قدیم و جدید نسخوں میں "مگر" ہی چھپا ہے اور اِس میں احتمالِ معنوی نے ایک مزید لطف بھی پیدا کر دیا ہے۔ تمام مہیا شہادتوں سے یہاں "مگر" ہی غالبؔ کا لفظ معلوم ہوتا ہے البتہ نسخۂ طباطبائی (لکھنؤ ۱۹۶۱) میں نسخۂ مہر ہی کی طرح "اگر" چھپا ہے۔ اُس نسخے میں اغلاطِ کتابت کی کثرت ہے۔ غالباً ان دونوں ہی نسخوں میں "اگر" غلطِ کاتب ہے۔ علاوہ ازیں نسخۂ مہر میں کاتب نے اِس غزل کے اشعار کی ترتیب بے مُحابا بدل ڈالی ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 6 of 11 in “⁨ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۶ / ۱۱