دیوانِ غالبردیف ی

کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی

۱

کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کیکہ شمعِ خانۂ دل، آتشِ مے سے فروزاں کی

۲

سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پرمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہائے ہجراں کی

۳

بہ زلفِ مہ وشاں، رہتی ہے، شب بیدار، ظاہر ہےزبانِ شانہ سے تعبیرِ صد خوابِ پریشاں کی

۴

ہمیشہ مجھ کو طفلی میں بھی مشقِ تیرہ روزی تھیسیاہی ہے مرے ایام میں، لوحِ دبستاں کی

۵

دریغ! آہِ سحر گہ کارِ بادِ صبح کرتی ہےکہ ہوتی ہے زیادہ، سرد مہری شمعِ رویاں کی

۶

مجھے اپنے جنوں کی، بے تکلف، پردہ داری تھیولیکن کیا کروں، آوے جو رسوائی گریباں کی

۷

ہنر پیدا کیا ہے میں نے، حیرت آزمائی میںکہ جوہر آئینے کا، ہر پلک ہے، چشمِ حیراں کی

۸

خدایا، کس قدر اہلِ نظر نے خاک چھانی ہے!کہ ہیں صد رخنہ، جوں غربال، دیواریں گلستاں کی

۹

ہوا شرمِ تہی دستی سے وہ بھی سرنگوں آخربس، اے زخمِ جگر، اب دیکھ لی شورش نمک داں کی

۱۰

بہ یادِ گرمیٔ صحبت، بہ رنگِ شعلہ دہکے ہےچھپاؤں کیوں کہ غالبؔ، سوزشیں داغِ نمایاں کی

۲۳۶ / ۳۰۷