کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی
سیاہی جیسے گِر جاوے دمِ تحریر کاغذ پرمری قسمت میں یوں تصویر ہے شب ہائے ہجراں کی
Editors' notes
شعر: متداول دیوان میں یہ غزل صرف اِس ایک شعر پر مشتمل ہے۔ پوری غزل نسخۂ رضا سے شامل کردہ ہے ۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 10 in “کہوں کیا گرم جوشی مے کشی میں شعلہ رویاں کی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۱۰