نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوشمجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار، حیف!
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں یہ غزل صرف دو اشعار پر مشتمل ہے۔ باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 5 of 8 in “نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!” in the section Ghazals — Radeef Fe, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۸