دیوانِ غالبردیف ف
نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!
۱
نامہ بھی لکھتے ہو، تو بہ خطِ غبار، حیف!رکھتے ہو مجھ سے اتنی کدورت، ہزار حیف!
۲
بیش از نفس، بتاں کے کرم نے وفا نہ کیتھا محملِ نگاہ بہ دوشِ شرار، حیف!
۳
تھی میرے ہی جلانے کو، اے آہ شعلہ ریزگھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار، حیف!
۴
گل چہرہ ہے کسو خفقانی مزاج کاگھبرا رہی ہے بیمِ خزاں سے بہار، حیف!
۵
بیمِ رقیب سے نہیں کرتے وداعِ ہوشمجبور یاں تلک ہوئے اے اختیار، حیف!
۶
جلتا ہے دل کہ کیوں نہ ہم اِک بار جل گئےاے ناتمامیٔ نَفَسِ شعلہ بار حیف!
۷
ہیں میری مشتِ خاک سے اُس کو کدورتیںپائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار، حیف!
۸
بنتا، اسدؔ، میں سرمۂ چشمِ رکابِ یارآیا نہ میری خاک پہ وہ شہ سوار، حیف!
۸۴ / ۳۰۷