شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ
Editors' notes
غزل: یہ غزل متداول دیوان میں درج نہیں۔ مگر نسخۂ مہرؔ میں غلام رسول مہرؔ صاحب نے ابوالکلام کے حوالے سے اس کو درج کیا ہے۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 1 of 15 in “شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ” in the section Ghazals — Radeef He, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱۵