دیوانِ غالبردیف ہ
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ
شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ
خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ پُر شکن تکیہ
بنا ہے تختۂ گل ہائے یاسمیں بسترہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ
فروغِ حسن سے روشن ہے خواب گاہ تمامجو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ
مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کارکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ
اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکراٹھا سکا نہ نزاکت سے گل بدن تکیہ
ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائباگرچہ زانوئے نل پر رکھے دمن تکیہ
بہ ضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہواکہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہ کُن تکیہ
یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تکرکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ
اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکناٹھائے کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ
غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کوہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ
جو بعدِ قتل، مرا دشت میں مزار بنالگا کے بیٹھتے ہیں، اس سے راہ زن، تکیہ
شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کاکہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ
روا رکھو نہ رکھو، تھا جو لفظ تکیہ کلاماب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ"
ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیںفقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ
۱۳۸ / ۳۰۷