دیوانِ غالب · ردیف جلو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں۱لو ہم مریضِ عشق کے بِیماردار ہیںاچھّا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!۶۴ / ۳۰۷