لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں
لو ہم مریضِ عشق کے بِیماردار ہیںاچھّا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج!
Editors' notes
بیماردار: نئے مروجہ نسخوں میں یہاں "بِیماردار" کی جگہ عموماً "تِیماردار" چھپا ہے، مگر قدیم نسخوں میں یہاں لفظِ "بیماردار" ہی ملتا ہے جو کم از کم غالبؔ کے عہد میں اِس مفہوم کے لیے زیادہ موزوں تھا۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 1 of 1 in “لو ہم مریضِ عشق کے بیماردار ہیں” in the section Ghazals — Radeef Jeem, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۱