آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

Editors' notes

ہونے تک: اکثر قدیم نسخوں میں "ہوتے تک" ردیف ہے۔ نسخۂ نظامی میں بھی لیکن کیونکہ نسخۂ حمیدیہ میں مروج قرأت "ہونے تک" ہی دی گئی ہے اس لیےاسی کو قابلِ ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: مالک رام صاحب نے لکھا ہے کہ "غالبؔ کی زندگی میں دیوان کے جتنے ایڈیشن شائع ہوئے، اُن میں ردیف 'ہوتے تک' ہے۔" راقم الحروف کے مشاہدے کی حد تک بھی مالک رام صاحب کی اس قول کی تائید ہوتی ہے مگر مولانا غلام رسول مہرؔ نے "ہونے تک" کی ردیف کی حق میں ایک نیم مشروط سی دلیل پیش کی ہے حالانکہ سہوِ کتابت کہیں بھی خارج از امکان نہیں۔ البتہ مالک رام صاحب نے قدیم نسخوں میں رامپور کے نسخۂ حمیدیہ کا ذکر نہیں کیا جس میں ردیف "ہونے تک" درج ہے۔ راقم الحروف کی رائے میں یہ بھی سہوِ کتابت ہے یا تحریف، کیونکہ آج کل بیشتر اہلِ ذوق "ہونے تک" کو صوتی لحاظ سے پسندیدہ سمجھتے ہیں۔ مگر اپنی پسند غالبؔ کے کلام کو عمداً بدل ڈالنے کا حق نہیں دیتی۔ مہر صاحب نے تحریر فرمایا ہے: "عرشی صاحب نے اب بھی اِس کی ردیف 'ہونے تک' ہی رکھی ہے۔" عرشی کا جو نسخہ راقم کی نظر سے گزرا ہے، اُس میں مولانا کے مشاہدے کے برعکس اس غزل کی ردیف "ہوتے تک" ہی ملتی ہے۔ بہرحال ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ غالبؔ نے کیا کہا تھا۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 1 of 8 in “⁨آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک⁩” in the section Ghazals — Radeef Kaaf, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۸