دیوانِ غالبردیف ک

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تک

۱

آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک

۲

دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک

۳

عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

۴

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

۵

پرتوِ خُور سے، ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہونے تک

۶

یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل!گرمیٔ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک

۷

تا قیامت شبِ فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک

۸

غمِ ہستی کا، اسدؔ! کس سے ہو جُز مرگ، علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

۸۶ / ۳۰۷