۱آہ کو چاہیے اِک عُمر اثر ہونے تککون جیتا ہے تری زُلف کے سر ہونے تک
۲دامِ ہر موج میں ہے حلقۂ صد کامِ نہنگدیکھیں کیا گُزرے ہے قطرے پہ گُہر ہونے تک
۳عاشقی صبر طلب اور تمنّا بے تابدل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک
۴ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکنخاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
۵پرتوِ خُور سے، ہے شبنم کو فنا کی تعلیممیں بھی ہوں، ایک عنایت کی نظر ہونے تک
۶یک نظر بیش نہیں فُرصتِ ہستی غافل!گرمیٔ بزم ہے اِک رقصِ شرر ہونے تک
۷تا قیامت شبِ فرقت میں گزر جائے گی عمرسات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہونے تک
۸غمِ ہستی کا، اسدؔ! کس سے ہو جُز مرگ، علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک