دیوانِ غالبردیف ن
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
۱
وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
۲
فرصتِ کاروبارِ شوق کسےذوقِ نظارۂ جمال کہاں
۳
دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہاشورِ سودائے خطّ و خال کہاں
۴
تھی وہ اک شخص کے تصّور سےاب وہ رعنائیٔ خیال کہاں
۵
ایسا آساں نہیں لہو رونادل میں طاقت، جگر میں حال کہاں
۶
ہم سے چھوٹا "قمار خانۂ عشق"واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں
۷
فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوںمیں کہاں اور یہ وبال کہاں
۸
فلکِ سفلہ بے محابا ہےاس ستم گر کو انفعال کہاں؟
۹
بوسے میں وہ مضائقہ نہ کرےپر مجھے طاقتِ سوال کہاں؟
۱۰
مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔوہ عناصر میں اعتدال کہاں
۹۴ / ۳۰۷