دیوانِ غالبردیف ن

کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں

۱

کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیںہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں

۲

آج ہم اپنی پریشانیٔ خاطر، ان سےکہنے جاتے تو ہیں، پر دیکھئے کیا کہتے ہیں

۳

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ، انھیں کچھ نہ کہوجو مے و نغمہ کو اندوہ رُبا کہتے ہیں

۴

دل میں آ جائے ہے، ہوتی ہے جو فرصت غش سےاُور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں

۵

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجودقبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں

۶

پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں

۷

اک شرر دل میں ہے اُس سے کوئی گھبرائے گا کیاآگ مطلوب ہے ہم کو، جو ہَوا کہتے ہیں

۸

دیکھیے لاتی ہے اُس شوخ کی نخوت کیا رنگاُس کی ہر بات پہ ہم نامِ خدا کہتے ہیں

۹

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ کہویں شایدمر گیا غالبِؔ آشفتہ نوا، کہتے ہیں

۹۵ / ۳۰۷