کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں
پائے افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہےخارِ رہ کو ترے ہم مہر گیا کہتے ہیں
Editors' notes
گیا: فارسی میں گھاس کے لیے "گِیاہ" اور "گِیا" دونوں لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ بعض لغت نویسوں کی رائے ہے کہ لفظ "گِیا" صرف خُشک گھاس کے لیے مخصوص ہے مگر یہ خیال درست نہیں معلوم ہوتا۔ "مہر گِیا" یا "مہر گِیاہ" جس کو "مَردُم گِیاہ" بھی کہتے ہیں اُس کے بارے میں بھی لغت نویس کسی ایک خیال پر متفق معلوم نہیں ہوتے۔ اس کے مفاہیم میں محبوب، رخِ نگار، سبزۂ خط، سورج مکھی، نیز مَردُم گیاہ کی دو شاخ جڑ جو انسان نما سمجھی جاتی ہے، شامل ہے۔ عوام کا خیال تھا کہ جو شخص اِس گھاس کی جڑ اپنے پاس رکھتا ہے، محبوب اس پر مہربان اور ہر شخص اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 6 of 9 in “کی وفا ہم سے، تو غیر اِس کو جفا کہتے ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۶ / ۹