دیوانِ غالبردیف ن

آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیں

۱

آبرو کیا خاک اُس گُل کی، کہ گلشن میں نہیںہے گریبان ننگِ پیراہن جو دامن میں نہیں

۲

ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیںرنگ ہو کر اڑ گیا، جو خوں کہ دامن میں نہیں

۳

ہو گئے ہیں جمع اجزائے نگاہِ آفتابذرّے اُس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں

۴

کیا کہوں تاریکیٔ زندانِ غم، اندھیر ہےپنبہ، نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں‌ نہیں

۵

رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز سےانجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں

۶

زخم سِلوانے سے مجھ پر چارہ جوئی کا ہے طعنغیر سمجھا ہے کہ لذّت زخمِ سوزن میں نہیں

۷

بس کہ ہیں ہم اک بہارِ ناز کے مارے ہوئےجلوۂ گُل کے سِوا گرد اپنے مدفن میں نہیں

۸

قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کاخُوں بھی ذوقِ درد سے، فارغ مرے تن میں نہیں

۹

لے گئی ساقی کی نخوت قلزم آشامی مریموجِ مے کی آج رگ، مینا کی گردن میں نہیں

۱۰

ہو فشارِ ضعف میں کیا نا توانی کی نمود؟قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں

۱۱

تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلّف، ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں

۹۶ / ۳۰۷