دیوانِ غالبردیف ن

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیں

۱

ہم پر جفا سے ترکِ وفا کا گماں نہیںاِک چھیڑ ہے وگرنہ مراد امتحاں نہیں

۲

کس منہ سے شکر کیجیے اس لطف خاص کاپرسش ہے اور پائے سخن درمیاں نہیں

۳

ہم کو ستم عزیز، ستم گر کو ہم عزیزنا مہرباں نہیں ہے اگر مہرباں نہیں

۴

بوسہ نہیں، نہ دیجیے دشنام ہی سہیآخر زباں تو رکھتے ہو تم، گر دہاں نہیں

۵

ہر چند جاں گدازیٔ قہر و عتاب ہےہر چند پشت گرمیٔ تاب و تواں نہیں

۶

جاں مطربِ ترانہ هَل مِن مَّزيد ہےلب پردہ سنجِ زمزمۂِ الاَماں نہیں

۷

خنجر سے چیر سینہ اگر دل نہ ہو دو نیمدل میں چُھری چبھو مژہ گر خون چکاں نہیں

۸

ہے ننگِ سینہ دل اگر آتش کدہ نہ ہوہے عارِ دل نفس اگر آذر فشاں نہیں

۹

نقصاں نہیں جنوں میں بلا سے ہو گھر خرابسو گز زمیں کے بدلے بیاباں گراں نہیں

۱۰

کہتے ہو "کیا لکھا ہے تری سر نوشت میں"گویا جبیں پہ سجدۂ بت کا نشاں نہیں

۱۱

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کیرُوح القُدُس اگرچہ مرا ہم زباں نہیں

۱۲

جاں ہے بہائے بوسہ ولے کیوں کہے ابھیغالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں‌ نہیں

۱۰۰ / ۳۰۷