دیوانِ غالبردیف ن

ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مے پرستی ایک دن

۱

ہم سے کھل جاؤ بہ وقتِ مے پرستی ایک دنورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

۲

غَرَّۂ اوجِ بِنائے عالمِ امکاں نہ ہواِس بلندی کے نصیبوں میں ہے پستی ایک دن

۳

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

۴

نغمہ ہائے غم کو ہی اے دل غنیمت جانیےبے صدا ہو جائے گا یہ سازِ ہستی ایک دن

۵

دَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیںہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن

۹۹ / ۳۰۷