دیوانِ غالبردیف ن

عشق تاثیر سے نومید نہیں

۱

عشق تاثیر سے نومید نہیںجاں سپاری شجرِ بید نہیں

۲

سلطنت دست بہ دَست آئی ہےجامِ مے خاتمِ جمشید نہیں

۳

ہے تجلی تری سامانِ وجودذرّہ بے پرتوِ خورشید نہیں

۴

رازِ معشوق نہ رسوا ہو جائےورنہ مر جانے میں کچھ بھید نہیں

۵

گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہےغمِ محرومیٔ جاوید نہیں

۶

کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگہم کو جینے کی بھی امّید نہیں

۷

مے کشی کو نہ سمجھ بے حاصلبادہ، غالبؔ! عرقِ بید نہیں

۱۰۴ / ۳۰۷