دیوانِ غالبردیف ن

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

۱

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیںخیاباں خیاباں اِرم دیکھتے ہیں

۲

دل آشفتگاں خالِ کنجِ دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیں

۳

ترے سروِ قامت سے اک قدِ آدمقیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں

۴

تماشا! کہ اے محوِ آئینہ داریتجھے کس تمنّا سے ہم دیکھتے ہیں

۵

سراغِ تُفِ نالہ لے داغِ دل سےکہ شب رَو کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

۶

کسو کو ز خود رستہ کم دیکھتے ہیںکہ آہو کو پابندِ رم دیکھتے ہیں

۷

خطِ لختِ دل یک قلم دیکھتے ہیںمژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

۸

سرابِ یقین ہیں پریشان نگاہاںاسدؔ کو گر از چشمِ کم دیکھتے ہیں

۹

کہ ہم بیضۂ طوطیٔ ہند، غافلتہِ بالِ شمعِ حرم دیکھتے ہیں

۱۰

بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔتماشائے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

۱۰۵ / ۳۰۷