کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں
رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
Editors' notes
تھمے: نسخۂ نظامی مطبوعہ ۱۸۶۲ میں "تھمے" کی جگہ "تھکے" چھپا ہے۔ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 4 of 11 in “کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۴ / ۱۱