دیوانِ غالبردیف ن

کل کے لیے کر آج نہ خسّت شراب میں

۱

کل کے لیے کر آج نہ خِسّت شراب میںیہ سُوء ظن ہے ساقیٔ کوثر کے باب میں

۲

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسندگستاخیٔ فرشتہ ہماری جناب میں

۳

جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دمِ سماعگر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

۴

رَو میں‌ ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمےنے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

۵

اتنا ہی مجھ کو اپنی حقیقت سے بُعد ہےجتنا کہ وہمِ غیر سے ہُوں پیچ و تاب میں

۶

اصلِ شہود و شاہد و مشہود ایک ہےحیراں ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

۷

ہے مشتمل نمُودِ صُوَر پر وجودِ بحریاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

۸

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہیہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یُوں حجاب میں

۹

آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

۱۰

ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہودہیں‌ خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں

۱۱

غالبؔ ندیمِ دوست سے آتی ہے بوئے دوستمشغولِ حق ہوں، بندگیٔ بُوتراب میں

۱۰۷ / ۳۰۷