نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں
نفی سے کرتی ہے اِثبات طَراوِش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد ”نہیں“
Editors' notes
اثبات: "اِثبات" غالباً بالاتفاق مذکر ہے۔ غالبؔ نے خود دوسری جگہ اِس لفظ کو مذکر استعمال کیا ہے۔ تاہم غالبؔ کا یہ شعر اِس لفظ کی تانیث کا بھی جواز پیدا کر دیتا ہے۔ — حامد علی خاںطراوش: نسخۂ مہر اور نسخۂ حامد علی خاں میں "تراوِش"۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 8 of 10 in “نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۸ / ۱۰