دیوانِ غالبردیف ن
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیں
۱
نالہ جُز حسنِ طلب، اے ستم ایجاد نہیںہے تقاضائے جفا، شکوۂ بیداد نہیں
۲
عشق و مزدوریٔ عشرت گہِ خسرو، کیا خُوب!ہم کو تسلیم، نکو نامیٔ فرہاد نہیں
۳
کم نہیں وہ بھی خرابی میں، پہ وسعت معلومدشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
۴
اہلِ بینش کو ہے طوفانِ حوادث مکتبلَطمۂ موج کم از سیلیٔ استاد نہیں
۵
وائے مظلومیٔ تسلیم! و بدا! حالِ وفا!جانتا ہے کہ ہمیں طاقتِ فریاد نہیں
۶
رنگِ تمکینِ گُل و لالہ پریشاں کیوں ہے؟گر چراغانِ سرِ راہ گُزرِ باد نہیں
۷
سَبَدِ گُل کے تلے بند کرے ہے گل چیں!مژدہ اے مرغ! کہ گل زار میں صیّاد نہیں
۸
نفی سے کرتی ہے اِثبات طَراوِش گویادی ہی جائے دہن اس کو دمِ ایجاد ”نہیں“
۹
کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشتیہی نقشہ ہے ولے، اس قدر آباد نہیں
۱۰
کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔتم کو بے مہریٔ یارانِ وطن یاد نہیں؟
۱۱۰ / ۳۰۷