دیوانِ غالبردیف ن
سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
۱
سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میںرہے یاں، شوخیٔ رفتار سے، پا آستانے میں
۲
ہجومِ مژدۂ دیدار، و پردازِ تماشا ہاگلِ اقبالِ خس ہے چشمِ بلبل، آشیانے میں
۳
ہوئی یہ بے خودی چشم و زباں کو تیرے جلوے سےکہ طوطی قفلِ زنگ آلودہ ہے آئینہ خانے میں
۴
ترے کوچے میں ہے، مشاطۂ واماندگی، قاصدپرِ پرواز، زلفِ باز ہے ہدہد کے شانے میں
۵
کجا معزولیٔ آئینہ؟ کُو ترکِ خود آرائی؟نمد در آب ہے، اے سادہ پُرکار، اس بہانے میں
۶
بہ حکمِ عجز، ابروئے مہِ نو حیرت ایما ہےکہ یاں گم کر جبینِ سجدہ فرسا آستانے میں
۷
قیامت ہے کہ سُن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا "یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟"
۸
دلِ نازک پہ اُس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔنہ کر سرگرم اُس کافر کو اُلفت آزمانے میں
۱۱۳ / ۳۰۷