سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
قیامت ہے کہ سُن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا "یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟"
Editors' notes
اشعار: متداول دیوان میں صرف یہ ایک شعر اور مقطع ہے، باقی اشعار نسخۂ رضا سے شامل کیے گئے ہیں۔ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 7 of 8 in “سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۷ / ۸