دیوانِ غالبردیف ن

نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں

۱

نہیں، کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں

۲

کوئی کہے کہ "شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے"بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں

۳

جو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں

۴

کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیںکہ "آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں"

۵

علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگدائے کُوچۂ مے خانہ نا مراد نہیں

۶

جہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام؟دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں

۷

تم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالبؔیہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ"یاد نہیں"

۱۱۶ / ۳۰۷