دیوانِ غالبردیف ن
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
۱
تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں
۲
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہَوا باندھتے ہیں
۳
تیری فرصت کے مقابل اے عُمْر!برق کو پا بہ حنا باندھتے ہیں
۴
قیدِ ہستی سے رہائی معلوم!اشک کو بے سر و پا باندھتے ہیں
۵
نشۂ رنگ سے ہے واشُدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں
۶
غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں
۷
اہلِ تدبیر کی واماندگیاںآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں
۸
سادہ پُرکار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں
۹
پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیںمیرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں
۱۱۷ / ۳۰۷