تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہَوا باندھتے ہیں
Editors' notes
شعر: یہ شعر نسخۂ رضا میں اس غزل کے بجائے ایک اور غزل میں درج ہے جس کا مطلع ہے: ؎ پاؤں میں جب وہ حنا باندھتے ہیں میرے ہاتھوں کو جدا باندھتے ہیں — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 2 of 9 in “تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۲ / ۹